نئی دہلی، 6/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کی منسوخی اورکشمیر کا ریاستی درجہ ختم کرکے اسے دوحصوں میں تقسیم کرنے کے خلاف داخل کی گئی پٹیشنوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے منگل کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چُڈ کی قیادت میں 5رکنی آئینی بنچ نے اس معاملے میں لگاتار 16 دنوں تک تیز رفتار سماعت کی ۔ چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گوَئی اور جسٹس سوریہ کانت بھی کشمیر کے اس اہم معاملے پر سماعت کرنے والی بنچ میں شامل تھے۔
مودی سرکارکے فیصلے کو چیلنج کرنے والے فریقوں کی پیروی کپل سبل، گوپال سبرامنیم ، راجیو دھون، ظفر شاہ اور دشینت دوے سمیت ملک کے کئی سینئر وکیلوں نے کی۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مدعی یا مدعا علیہ میں سے کسی کا بھی کوئی وکیل اگر ضرورت محسوس کرتا ہے اور کوئی اور بات کورٹ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہے تو وہ آئندہ 3دنوں میں اپنا تحریری موقف کورٹ میں پیش کرسکتاہے۔ بہرحال کورٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ 2 صفحہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ گزشتہ 16 دنوں کی شنوائی میں عدالت نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی، سالیسٹر جنرل تشار مہتا، سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے، راکیش دویدی ، وی گیری اور دیگر نے کورٹ میں حکومت کا موقف پیش کیا اور آرٹیکل370 کی منسوخی کا دفاع کیا۔ بحث کے دوران 5اکتوبر 2019 کو آرٹیکل 370کی منسوخی کے آئینی جواز کے ساتھ ہی کشمیر کی تقسیم کرنے والے قانون کے جواز پر بھی بحث ہوئی۔ مذکورہ عرضیوں کو 2019میں ہی آئینی بنچ کے حوالے کردیاگیاتھا ۔ مارچ 2020میں ان پر آخری سماعت ہوئی اس کے بعد 3سال سے یہ معاملہ زیر التواء رہا۔2 اگست 2023کو چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چُڈکی قیادت میں 5رکنی بنچ نے سماعت شروع کی اور لگاتار 16دنوں تک ہونےو الی سماعت میں تفصیلی بحث ہوئی اور دونوں طرف سے دلائل پیش کئے گئے۔